13 May, 2025

منٹو کا "یزید"



"منٹو کا "یزید                                               

سجاد حیدر بریلوی المعروف منٹو اُردو کے ان عظیم ناول نگاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف انسانی نفسیات بلکہ سماجی اور تاریخی حقائق کو بھی بڑی دلنشین اور فنی انداز میں بیان کیا۔ ان کی کہانی "یزید" بھی اسی روایت کی ایک کڑی ہے، جو تاریخ، فکشن اور اخلاقیات کو سموئے ہوئے ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار "یزید بن معاویہ" ہے، جو بنی امیہ خلفاء میں سے ایک تھا۔ تاریخ میں یزید کا نام عموماً منفی تناظر میں آتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس کے دور میں کربلا کا المیہ رونما ہوا، جہاں حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے شہادت کا راز فروغ دیا۔ اس واقعہ کے بعد یزید کا نام محض ایک ظالم اور بے دین حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا رہا ہے۔

 منٹو کی نظر میں یزید

لیکن منٹو نے اس کہانی میں ایک مختلف پہلو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے "یزید" کو صرف ایک ظالم حکمران کے بجائے ایک انسانی شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ کہانی میں یزید کو ایک ایسے شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اقتدار، عیش و عشرت اور ذاتی خواہشات کے باوجود اپنے وجود کے کمزور پہلوؤں سے دوچار ہے۔ وہ ایک ایسا انسان ہے جو قدرتی طور پر غلطی کر سکتا ہے، جسے شکستیں ملتی ہیں اور جو اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہوتا ہے. منٹو کی کہانی میں یزید کے اندر ایک ایسا احساس موجود ہے کہ وہ اپنے فعل سے آگاہ ہے، لیکن اس کے باوجود وہ ان سے نہیں بچ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی کے اختتام پر یزید اپنی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے کہتا ہے:  

 “اگر مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں ایک گدھا بننا پسند کروں یا کتوں کا بچہ، لیکن انسان نہیں بننا چاہوں گا۔”

یہ جملہ منٹو کے فن کا عکاس ہے، جو انسانی نفسیات اور سماجی دباؤ کو بڑی گہرائی سے پیش کرتا ہے۔

یزید کی کہانی منٹو کے اس موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ تاریخ میں شخصیات کو سیاہ و سفید نہیں دیکھنا چاہیے۔ ہر شخص کے پیچھے ایک سماجی، ثقافتی اور سیاسی پس منظر ہوتا ہے، جو اس کے افعال کو شکل دیتا ہے۔ منٹو نے اس کہانی میں تاریخی شخصیت کو فکشن کے ذریعے زندہ کیا ہے اور اس کے ذہنی اور جذباتی دنیا کو پیش کیا ہے۔ کہانی میں خواتین کا کردار بھی قابلِ غور ہے۔ یزید کی بیوی ہندہ ایک مضبوط شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہے، جو یزید کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ ایک ایسی عورت ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور جذباتی سطح پر بھی جڑی ہوئی ہے۔

 منٹو کا یزید اور نریندر مودی

منٹو کی کہانی "یزید" میں جو تاریخی ظلم اور اقتدار کے نشہ میں کھوئی ہوئی شخصیت کا نقشہ پیش کیا گیا ہے، اس کی موجودہ دنیا میں بھی واضح عکاسی دیکھی جا سکتی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کی کوششیں، اسی ظلم اور سیاسی مصلحت کی عکاسی کرتی ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو پانی استعمال کرنے کے حقوق دیے گئے تھے۔ لیکن موجودہ بھارتی حکومت نے حالیہ برسوں میں اس معاہدے کو چیلنج کیا ہے، اور پاکستان کو پانی فراہم کرنے والے منصوبوں پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے۔ یہ وہی ظلم ہے جو منٹو کی کہانی میں یزید کے کردار میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں اقتدار کے نشہ میں مست حکمران، انصاف، اخلاق اور انسانیت کو بالائے طاق رکھ کر اپنی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں۔

منٹو کی کہانی "یزید" نہ صرف ایک تاریخی داستان ہے، بلکہ ایک ایسی کہانی ہے جو انسانیت کے ضمیر، اقتدار کے اثرات اور اخلاقی جنگ کو بڑی موثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ تاریخ میں کسی بھی شخصیت کو سمجھنے کے لیے صرف ایک جانب دیکھنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے۔ نریندر مودی کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو منسوخ کرنے کی کوششیں، تاریخی ظلم کی موجودہ دنیا میں عکاسی کرتی ہیں۔ اس لیے منٹو کی کہانی "یزید" آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس کا پیغام وقتاً فوقتاً دہرایا جاتا رہے گا۔

 بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی تو وہ شخصیت ہیں جو سندھ طاس معاہدے پر زیادہ بات کرتے رہے ہیں اور "پانی روکنے" کے حوالے سے ان کے متعدد بیانات آئے ہیں اور یزید بھی پانی روکنے کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن درحقیقت، نریندر مودی کے علاوہ بھی کچھ دیگر بھارتی حکمرانوں اور سیاستدانوں نے بھی پاکستان کو پانی فراہمی بند کرنے یا معاہدہ منسوخ کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ پانی روکنے کی سوچ بھارت میں اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ جب سے آر ایس ایس کی طفیلی پارٹی بی جے پی اقتدار میں آئی ہے اس طرح کی سوچ کو تقویت مل رہی ہے۔ 

ذیل میں ان کے نام اور ان کے بیانات درج ہیں

راج ناتھ سنگھ (وزیر داخلہ، سابق وزیر دفاع)

وقت: 2016ء

واقعہ: سرجیکل اسٹرائیک کے بعد، بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت مؤقف اپنایا۔

بیان: تب کے دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا تھا:

“ہم سندھ طاس معاہدے پر دوبارہ غور کر رہے ہیں۔ ہم پاکستان کو پانی نہیں دے سکتے اگر وہ دہشت گردی کو فروغ دیتا رہے گا۔” 

 ارون جیٹلی (سابق وزیر خزانہ، دفاع اور قانون)

وقت: 2016ء

بیان: انہوں نے بھی سندھ طاس معاہدے کو "ایک جانبہ" قرار دیتے ہوئے کہا تھا

“بھارت کو اس معاہدے کے تحت اپنا حق استعمال کرنا چاہیے اور اگر ضرورت ہو تو اسے منسوخ کرنا چاہیے۔” 

یوگی ادتیاناتھ (وزیر اعلیٰ اتر پردیش)

وقت: 2019ء

بیان: انہوں نے ایک تقریب میں کہا تھا

“ہمیں پاکستان کو پانی دینے کے بجائے اسے سبق سکھانا چاہیے۔ ہم اسے پانی نہیں دیں گے، بلکہ گولیاں دیں گے۔” 

 منٹو نے کہانی "یزید" اسوقت لکھی، جب بھارت نے نوزائدہ ریاست پاکستان کو پانی روکنے کی دھمکی دی ہوئی تھی۔ اس لیے یہ کہانی نہ صرف تاریخی ہے، بلکہ اپنے وقت کی سیاست اور سماجی حقائق کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ کیونکہ ظلم، اقتدار اور انسانی ضمیر کا موضوع ہمیشہ سے ہے  آج بھی موجود ہے اور رہے گا۔


17 April, 2025

استحصال اور ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں


 استحصال اور ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں

استحصال کی تعریف

استحصال کا مطلب ہے کہ ایک شخص، گروہ، یا طبقہ دوسرے کی خدمات، قوتِ عمل، یا وسائل کو اپنے فائدے کے لیے غیر انصافی کے ساتھ استعمال کرے۔ یہ معاشی، سماجی، یا نفسیاتی طور پر ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر:
اقتصادی استحصال: کام کرنے والے لوگوں کو متناسب تنخواہ نہ دینا یا ان کی محنت کا ناانصاف فائدہ اٹھانا۔
اجتماعی استحصال: کسی کی نسل، جنس، مذہب، یا ذات کی بنیاد پر اس کو حقارت کا شکار بنانا۔
طبیعی استحصال: قدرت کے وسائل کو بے رحمی سے استعمال کرکے ماحولیاتی تباہی کرنا۔

 اگر استحصال ختم ہو تو کیا ہوگا؟
اگر انسان ایک دوسرے کا استحصال بند کردیں، تو یہ دنیا بالکل جنت بن سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے:

اقتصادی نظام میں عدل و انصاف
- اگر معاشی استحصال ختم ہو جائے، تو ہر انسان کو اپنی محنت کے بدلے عادلانہ تنخواہ ملے گی۔
- غربت ختم ہو جائے گی، اور ہر انسان کو اپنی اور اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات (کھانا، کپڑا، مکان) فراہم ہونے لگیں گے

قُرآن کی روشنی میں
"وَفِیۡ أَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ"  
(سورۃ الذاریات: 19)  
اس آیت میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کو اپنے مال میں دوسرے کا حق ہے۔ اگر یہ حق عطا کیا جائے، تو استحصال ختم ہو جائے گا۔

اجتماعی نظام میں برابری
- اگر نسل، جنس، مذہب، رنگ ، معذوری یا ذات کی بنیاد پر استحصال نہ ہو، تو لوگوں کے درمیان محبت اور اتحاد پیدا ہوگا۔
-  اجتماعی طبقاتی فرق ختم ہوں گے، اور ہر انسان کو اپنی صلاحیتوں کے بدلے برابر موقع فراہم ہوں گے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ریاستوں کا بنیاد ہے جس کی بنا پر آج بھی استحصال موجود ہے۔ انسان ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے۔

حدیث کی روشنی میں  
"کُلُّکُمْ بَنُو آدَمَ وَ آدَمُ خُلِقَ مِنْ تُرَابٍ"  
(ترمذی)  
یعنی ہر انسان آدم کی اولاد ہے، اور اس کی بنیاد تراب ہے۔ یہ حدیث یہ بتاتی ہے کہ تمام انسانوں میں برابری ہے۔ اس کے علاوہ خطبہ حجۃ الوداع اجتماعی نظام میں برابری کی عمدہ مثال ہے جس کو انسانی حقوق کا پہلا چارتر کہا جا تا ہے۔

ماحول کی حفاظت 
- اگر قدرتی وسائل کا استحصال ختم ہو جائے، تو ہم زمین کو صاف، ہوا کو پاک، اور پانی کو شدید آلودگی سے بچانے میں کامیاب ہوں گے۔  یہ انسانوں کے لیے ایک شاندار مستقبل کی ضمانت ہوگا

قُرآن کی روشنی میں  
"وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا" 
(سورۃ الأعراف: 56)  
یعنی زمین کو تباہ نہ کرو جب اسے درست کیا گیا ہے۔

حدیث کی روشنی میں
425 ما هذا السرف فقال أفي الوضوء إسراف قال نعم وإن كنت على نهر جار
(سنن ابن ماجه)
یعنی  اگر نہر کے کنارے بیٹھے ہو تو پانی ضائع نہ کرو

نفسیاتی استحصال کا خاتمہ
- اگر لوگ دوسرے کے جذبات کو استحصال کے ذریعے نہ زیر کرنے کی کوشش کریں، تو دوستی، محبت، اور رحم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ انسان ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنا شروع کریں گے  اور معاشرہ میں ایک نئی ثقافتِ محبت پیدا ہوگی۔

 کیا دنیا واقعی جنت بن جائے گی؟
دنیا کو جنت بنانا ایک خواب  ہے، لیکن اس کے لیے ہر انسان کو اپنے آپ کو اندر سے بدلنا ہوگا۔ اسلام میں یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا جنت کا پردا ہے، لیکن یہ پردا اس وقت کھلے گا جب انسان ایک دوسرے کے حقوق کو پورا کرے گا۔

قُرآن کی روشنی میں  
"وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّى جَاعِلٌ فِى ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةً"  
(سورۃ البقرہ: 30)  
یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر خلیفہ بنایا ہے۔ یعنی انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمین کو جنت بنائے۔

اگر انسان ایک دوسرے کا استحصال بند کردیں، تو دنیا واقعی جنت بن سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں اپنے اندر کی بدیوں، جیسے حسد، طمع، اور ظلم کو دور کرنا ہوگا۔ اسلام کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ انسان ایک دوسرے کے حقوق کو پورا کرے، اور اس طرح دنیا کو ایک بہترین مقام بنائے۔ 

آیت کی روشنی میں 
"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"  
(سورۃ النساء: 19)  
یعنی ایک دوسرے کے ساتھ اچھے سلوک کریں۔ اسی کے بعد دنیا جنت بن سکتی ہے۔

حدیث کی روشنی میں 
وإماطته الاذى عن الطريق صدقة 
 راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے
 ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں ہم صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہم جب کوئی چیز بناتے ہیں تو معذوری کے حامل افراد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جس سے ان کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں۔ اسلام ہمیں رکاوٹیں دور کرنے کا درس دیتا ہے جبکہ ہم غیرارادی طور پر ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم سے کوتاہی ہو جاتی ہے۔