پاکستان میں بجلی کی قیمت میں کمی, وجہ، حقیقت اور امکانات
پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا حالیہ اعلان ملک کے توانائی سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے ہے۔ وفاقی حکومت کے بقول گھریلو اور صنعتی صارفین دونوں کے لیے فی یونٹ قیمت میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ تاہم، یہ کمی کیسے ممکن ہوئی اور کیا یہ ریلیف طویل عرصے تک برقرار رہ پائے گا، یہ وہ سوالات ہیں جن پر گہری نظر ڈالنا ضروری ہے۔
حکومت کے مطابق، جون 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 48.70 روپے فی یونٹ تھی، جو اب 34.37 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے۔ اسی طرح، صنعتی صارفین کے لیے فی یونٹ قیمت 58.50 روپے سے کم ہو کر 48.19 روپے ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس کمی کا اعلان کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اس پر راضی کرنا ایک مشکل کام تھا۔
اصل مسئلے کی جڑ پی پی پی اور نواز لیگ ہیں جنہوں نے آئی پی پیز سے معاہدے کیئے۔ جب سیاستدانوں نے دیکھا کہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے تو انہوں نے اپنی کمپنیز بنا کر ان سے معاہدے کر لئے۔ پاکستان میں آئی پی پیز کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا، جب حکومت نے نجی شعبے کو بجلی کی پیداوار میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت، ملک کو بجلی کی شدید قلت کا ہوگا ، اور حکومت کے پاس اتنی مالی گنجائش نہیں تھی کہ وہ نئے پاور پلانٹس لگا سکے۔ متبادل ذرائع دیکھنے کی بجائے، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں، حکومت نے ان کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹ کی ضمانت دی، جس کا مطلب ہے کہ حکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے، اسے ان کمپنیوں کو ایک مقررہ رقم ادا کرنی ہوگی۔ یہ معاہدے اس وقت کے معاشی حالات کے مطابق کیے گئے تھے یا پھر سیاسی شہرت حاصل کرنے کیلئے، جب پاکستان کو فوری طور پر بجلی کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت تھی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ، ان معاہدوں کے منفی اثرات سامنے آنے لگے۔ واپڈا میں رشوت عروج پر تھی اور اسے سفید ہاتھی کا خطاب مل چکا ہے اوپر سے کیپسٹی پیمنٹ کی وجہ سے، حکومت پر مالی بوجھ بڑھ گیا، اور آ پی پیز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ اس کے علاوہ، ان معاہدوں میں شفافیت کی کمی بھی ایک مسئلہ رہی ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ حکومتیں جلدی میں تھیں۔ اوپر سے ڈالر اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اہم سبب رہا ہے۔ پاکستان ایک درآمدی ملک ہے، اور ڈالر کی قیمت میں اضافے سے درآمدی اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی کی پیداوار کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ کئی بجلی گھر تیل سے چلتے ہیں۔ یہ
ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس سے پاکستان کیلئے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔
اگر آپ دیے گئے گرافس کا تجزیہ کریں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کتنی کم ہوئیں اور پاکستان میں کتنی بڑھائی گئیں۔ جیسے جیسے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی گئین ہیسے ہیسے پاکستان میں تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں۔ عمران خان کو اتارنے کے بعد پی ڈی ایم کی ایک سال کی حکومت میں مہنگائی دو سو گنا اضافہ کیا گیا اور اسی مہنگائی کو آج پی تی آئی کی حکومت پر تھوپا جا رہا ہے۔ یہ سارے کام عمران خان سے کروانے تھے جس کی ابتداٗ ہو چکی تھی لیکن پی ڈی ایم کی جلد بازی نے عمران خان کا بھلا کردیا اب سارے کرتوت پی ڈی ایم کے کھاتہ میں اور تاریخ میں رقم ہو چکے ہیں۔ ایک طرف حکومت نے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالہ تو دوسری طرف بجلی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ صنعتیں شفٹ ہو کر بنگلادیش پہنچ گئیں اور بنگلادیش کو گارمینٹس پہلے نمبر ہر لاکر کھڑا کیا۔ جب کہ وہاں کپاس بھی پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ لوڈ شیڈنگ میں بہت اضافہ ہوا۔
ماہرین توانائی کے مطابق، یہ کمی اچانک نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی، قرضوں کی ری شیڈولنگ، اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ شامل ہیں۔ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کی ہے، جس سے کیپسٹی پیمنٹ کی ادائیگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ وہ ادائیگی ہے جو حکومت بجلی خریدے یا نہ خریدے، اسے ادا کرنی ہوتی ہے۔ نیوکلیئر اور سی پیک پلانٹس کے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی گئی ہے، جس سے حکومت کو مالی گنجائش ملی ہے۔
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافہ کیا ہے، جس سے اضافی ریونیو حاصل ہوا ہے اور بجلی کی قیمت میں کمی کے لیے مالی سپیس ملی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ کمی قلیل سے درمیانی مدت تک برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم، مستقبل میں بجلی کے ٹیرف میں تبدیلی سے اس کی پائیداری کا اندازہ ہو سکے گا۔ حکومت دوسرے آئی پی پیز کے ساتھ بھی معاہدوں پر نظرثانی کر سکتی ہے اور بجلی کی مارکیٹ کو مزید مسابقتی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان میں آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر طویل عرصے سے تنقید کی جا رہی ہے۔ جب یہ تنقید حد سے بڑھ کر میڈیا کی زینت بنی تو حکومت پر بہت زیادہ پریشر بڑھ گیا۔ ان معاہدوں میں حکومت نے 'ٹیک آر پے' کی بنیاد پر ادائیگی کی ضمانت دی تھی، جس کا مطلب ہے کہ بجلی خریدے بغیر بھی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ یہ کیپسٹی پیمنٹ کہلاتی ہے، جو صارفین کے بجلی کے بلوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ جب پانی سر سے اونچا ہوا تو حکومت نے ان معاہدوں پر نظرثانی شروع کردی، جس سے سالانہ اربوں روپے کی بچت متوقع ہے۔ تاہم، اس کا صارفین کے بلوں پر کتنا اثر پڑے گا، یہ دیکھنا باقی ہے۔ آئی پی پیز کی ملکیت کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ کچھ آئی پی پیز کے مالکان میں سیاستدان اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔ شفافیت کے حوالے سے، یہ ضروری ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات عام کی جائیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ ان معاہدوں سے ملک کو کتنا فائدہ یا نقصان ہو رہا ہے اور کون کون سی شخصیات اور کمپنیوں نے کتنے اور کون سے فوائد حاصل کئے۔
اس وقت فوری طور پر حکومت معاہدے ختم نہیں کر سکتی لیکن انھیں ریوائز کیا جا سکتا ہے۔ ان کیپسٹی چارجز میں 50 فیصد سے زیادہ شیئر گردشی قرضوں، ان پر سود، ایکویٹی پر رٹرن کی مد میں ہے اور تمام ہی پاکستان میں شرح سود، عالمی شرح سود، مہنگائی، اور ایکسچینج ریٹ سے جڑے ہیں۔ تو اگر یہ کم ہو جائیں اس صورت میں بھی کیپسٹی چارجز میں کمی آ سکتی ہے لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ معاشی ماہر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آج کی بات کریں تو مسئلہ آئی پی پیز (انڈیپیندنٹ پاور پروڈیوسرز) کا نہیں بلکہ اُن گردشی قرضوں کا ہے جن کا سامنا ہماری معیشت کو ہے۔
پاکستان کے توانائی سیکٹر کو پائیدار بنانے کے لیے، حکومت کو شفافیت اور مسابقت کو فروغ دینا ہوگا۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کے ساتھ ساتھ، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف بجلی کی قیمتوں میں کمی آئے گی بلکہ ملک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سنہ 2015 کے بعد جو بھی نئے منصوبے شروع کیے گئے جن میں جوہری منصوبے، ڈیم، یا دیگر مُمالک کی مدد سے شروع کیے جانے والے منصوبے تمام کی مدد میں لیے جانے والے قرضے اور پھر ان پر لگنے والے سود کی وجہ سے حالات مُشکل ہوئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب حکومت کو ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے حاصل کردہ قرضے سود کے ساتھ واپس کرنے پڑ رہے ہیں۔ ’پاکستانی روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی قدر میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے حکومت کو اب اپنے قرضوں میں شرح سود میں اضافے کا سامنا ہے۔‘ اس سوال کے جواب میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ’ہم جو ایک کام کر سکتے ہیں یا جس کے کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ حکومت اُن قرضوں کی واپسی کی تاریخ میں اضافے کی کوشش کرے جن کی ادائیگی اُسے اس سال کرنی تھی۔‘ ایسا کرنے سے حکومت کو بہتر انداز میں منصوبہ بندی کے لے وقت مل جائے گا اور مُلکی معیشت بھی مستحکم ہو سکے گی
آخر میں، بجلی کی قیمتوں میں کمی کا حالیہ اعلان ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی پائیداری اور تسلسل کے لیے حکومت کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ شفافیت، مسابقت اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، یہ وہ عوامل ہیں جو پاکستان کے توانائی سیکٹر کو پائیدار اور سستا بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو پرائیویٹائیز کرنا پرے گا۔ تاکہ رشوت کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اس معاملے میں حکومت ایک مشکل میں ہے۔ ایک طرف تو یہ کیپسٹی چارجز پوری معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، کیونکہ ٹیرف بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت پر لازم ہے کہ اس نے جس مدت کے لیے یہ معاہدے سائن کیے ہیں، اگر انھیں اس سے پہلے جبراً ختم کیا جاتا ہے تو وہ فارن ڈائیریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) اور کوئی بھی سرمایہ کار یہاں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پاور پلانٹس کا باقاعدگی سے آڈٹ کرے، تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ ان کی ڈیپینڈیبل کاپیسٹی کتنی ہے اور کیا یہ کیپسٹی چارجز لینے کے اہل بھی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت ان پاور پروڈیوسرز کو جلدی ریٹائر کر سکتی ہے اور ایشیائی ڈیویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے انرجی ٹرانزیشن میکنزم کے ذریعے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو پائیدار توانائی پیدا کرنے والے بجلی گھروں میں تبدیل کر سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈیمانڈ بڑھائے اور یوٹیلائزیشن ریٹ بڑھائے۔ جتنی ڈیمانڈ بڑھے گی اتنے کیپسٹی چارجز یونٹ ٹرمز میں کم ہوتے جائیں گے۔